منگلورو 28؍جولائی (ایس او نیوز) آلواس کالج میں دسویں کی طالبہ اور بہت ہی باصلاحیت بیڈمنٹن کھلاڑی نے مبینہ طور پر 20جولائی کو اپنے ہاسٹل کے کمرے میں جو خودکشی کی تھی اس پر کاویا کے والدین نے شک ظاہر کرتے ہوئے تعلیمی ادارے پر اپنی بیٹی کو منصوبہ بندی کے ساتھ قتل کرنے کا الزام لگا یا ہے۔
موڈ بیدری میں واقع آلواس تعلیمی ادارے میں کاویا زیر تعلیم تھی اور ریاستی سطح پر بیڈمنٹن میں وہ اپنا مقام بنا رہی تھی۔جس کے بارے میں خبر آئی تھی کہ اس نے امتحان میں امید کے برخلاف بہت ہی کم مارکس ملنے پر ذہنی تناؤ کی وجہ سے اپنے ہاسٹل کمرے میں پھانسی لگا کر خود کشی کرلی ہے۔ اب کاویا کے والد لوکیش نے موڈ بیدری پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرتے ہوئے اس پر قتل کا شبہ ظاہر کیا ہے اور تعلیمی ادارے کے فزیکل ٹریننگ ڈائریکٹر کو شک کے دائرے میں لیتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
کاویا کے والد لوکیش کا کہنا ہے کہ وہ اس کیس کو قانونی سطح پر نتیجہ خیز انجام تک لے جائیں گے تاکہ آئندہ کسی دوسری طالبہ کے ساتھ اس طرح کا سانحہ پیش نہ آنے پائے۔ لوکیش کا اصرار ہے کہ ان کی بیٹی ایک باہمت اور حوصلہ مند کھلاڑی تھی۔ وہ اس طرح بزدلی کا مظاہرہ کرکے خودکشی جیسا اقدام کرنہیں سکتی۔جبکہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ)کے ذمہ داران نے بھی اس معاملے کی گہرائی سے جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آلواس تعلیمی ادارے میں اس سے پہلے بھی اس قسم کی غیر فطری موت کا واقعات ہوچکے ہیں ، لیکن اس پر پردہ ڈال دیا گیا تھا۔
ڈی وائی ایف آئی جنوبی کینرا کے سنتوش باجل اور اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا کے نتین کوتارنے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چونکہ خود لڑکی کے والدین نے اس قسم کے شکوک و شبہات کا اظہار کیاہے اس لئے اس معاملے کی پوری تحقیق کی جائے اور لڑکی کے والدین کو انصاف دلایا جائے۔اسی کے ساتھ سوشیل میڈیا پر کاویا کو انصاف دلانے کا مطالبہ کرنے والی مہم بھی تیزہوئی گئی ہے۔